
پاکستان میں قانون کی حکمرانی دن بہ دن تنزالی کا شکار ہو رہی ہے۔(فوٹو؛انٹرنیٹ) قانون کسی بھی معاشرے کا اہم ستون ہوتا ہے جس کی کمزوری پورے معاشرے کی تباہی ہوتی ہے۔کسی بھی ملک کی خوشحالی میں انصاف کا ایک قالیدی کردار ہوتا ہے۔سستا اور فوری انصاف معاشرے میں امن کا ضامن ہے،بغیر دباؤ اور اثرو رسوخ کے انصاف کی فراہمی ملک و ریاست کی اہم ذمہ داری ہے اور اگر وہ اس میں ناکام ہوتی ہیے تو لوگ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے سکتے ہیے۔
کسی بھی ملک و قوم کی ترقی,سکون و اطمينان میں انصاف و قانون کا ایک اہم کردار ہوتا ہیے اور یہ ہی انصاف و قانون کسی بھی معاشرے ملک و ریاست کا ایک اہم ستون ہوتا ہے اور اس کی کمزوری پوری ریاست پر اثر انداز ہوتی ہے اور ایسا ہی کچھ دیکهنے کو آج کل پاکستان میں مل رہا ہے جی ہاں ہمیں ہر روز اخبارات ٹیلی وژن اور سوشل میڈیا سے ایسی خبریں ویڈیو اور تصویریں دیکهنے اور سنینے کو ملتی ہے جن میں سرے عام قانون و انصاف کی دھجیاں بکھری جاتی ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا ہے۔یا پھر کرنے والے اتنے طاقت وار ہوتے ہے کہ قانون و انصاف خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔اور یہ سب دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ریاست اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دن بہ دن کمزور ہوتے جا رہے ہے اور ہر جگہ میں طاقت وار کا کمزور پر ظلم و تشدد دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے اور کوئی بھی انھیں روکنے والا نہیں ہے۔اور دوسری طرف ہر سال قانون و انصاف کی فراہمی کی مد میں خرچ ہونے والی رقوم میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں آے روز ایسے واقعات دیکهنے کو ملتے ہے جن میں انصاف و قانون کی سرے عام تذليل کی جاتی ہے۔ اور عدالیتں فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوتی نظر آتی ہے مقدمہ ایک نسل اندراج کراتی ہے تو فیصلہ دوسری نسل سنتی ہے,اور یہ مرحلہ اتنا کھٹن اور دشوار ہوتا ہے کہ بہت سے غریب اور کمزور لوگ مقدمے کی پیروی بیچ میں چھوڑ کر اپنا فیصلہ اللہ تعالی اور روزے آخرت پر چھوڑ دیتے ہیے یا پھر وہ قانون کو اپنے ہاتھوں میں لینے کی کوشش کرتے ہیے اور اس سے معاشرے میں مایوسی اور بد انتظامی پھلتی ہیے۔ دین اسلام میں بھی عدل و انصاف پر بہت زور دیا گیا ہیے اور اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھری ہوئی ہیے جن میں مسلم حکمرانوں نے بغیر کسی تفریق کے عدل و انصاف کا کیا اور اس انصاف و عدل کی وجہ سے ہی وہ ہر دور میں کامیاب ہوے اور آج بھی لوگوں کے دلوں میں ٱن کے لیے عزت و احترام ہیے۔ پاکستان میں سابقہ حکمرانوں کے ادوار میں میں قانون شکنی عام سی بات تھی,اور انھوں نے اس کی طرف کوئی خاطر خواہ توجہ نہ دی جس سے لوگوں کے دلوں میں ٱن کے لیے مایوسی پھیلی اور پھر تبدیلی کی ایک آواز لگی اور لوگوں نے اس آواز پر لبیک کہا اور اس آس و ٱمید کے ساتھ کے اب کی بار انصاف و قانون کی حکمرانی آۓ گی اور ظلم و تشدد اور نہ انصافی کے سارے ُبت توڑ کر ایک انصاف امن اور خوشحالی کا سورج طلوع کرے گی لیکن افسوس صد افسوس کہ موجودہ حکمرانوں نے بھی سابقہ حکمرانوں سے سبق حاصل نہ کیا اور ٱنھیں کے چلے ہوے راستے پر چلنا شروع کر دیا اور اس مشن اور مقصد بھولتے جا رہیے ہیے جس کے لیے لوگوں نے ٱنھیں ووٹ اور عزت دی تھی اور آج وہ ہی ووٹر اور عام آدمی جس نے اس تبدیلی کو پروان چڑھنے میں اہم کردار ادا کیا تھا وہ اس تبدیلی اور اس کی آواز لگانے والوں سے مایوس ہوں رہا ہے اور کہیں ایسا نہ ہو کے تمہاری دستاان نہ رہیے داستانوں میں۔ بلاگر ۔ حسن طارق شیخ حال مقیم دبئ متحدہ عرب امارات۔۔۔